کاروار :27/جولائی (ایس او نیوز) حالانکہ اگلے اسمبلی انتخابات کے لئے ا بھی کافی عرصہ باقی ہے ، مگر امیدواری کی آس لگانا اور ٹکٹ پانے کے لئے جد وجہد کرناابھی سے سیاسی لیڈروں کے معمولات میں شامل ہوگیا ہے۔کاروار سے ملنے والی خبروں پر اگر بھروسہ کریں تو آنند اسنوٹیکر بی جے پی سے پالا بد ل کر جنتا دل میں داخل ہونے اور وہاں ٹکٹ حاصل کرکے انتخابی میدان میں اترنے کی تیاری میں لگ گئے ہیں۔ سیاسی حالات پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے آنند اسنوٹیکر کے دل میں جاگی ہوئی وہ امید ہوگی کہ اگر آئندہ انتخابات کے بعد ساجھے داری والی سرکار بنتی ہے تو جے ڈی ایس سے جیتنے پر ان کے لئے وزارت کی کرسی پانا آسان ہوجائے گا۔
یہ بات تو سب پر عیاں ہے کہ جنتا دل (ایس) اپنے طور پر یہ مان رہی ہے کہ آئندہ الیکشن میں کسی ایک پارٹی کو اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے اتحادی سرکار بننا یقینی ہے، اور اس میں جے ڈی ایس شاہ گر یا کنگ میکر کے فیصلہ کن رول میں رہے گی۔اسی پس منظر میں اسنوٹیکر کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے جے ڈی (ایس) کے رہنما کمار سوامی سے گفت و شنید کا دور شروع کردیا ہے، کیونکہ جے ڈی ایس کو ضلع شمالی کینرا میں تین مقامات پر اپنی جیت ہونے کی پوری امید ہے جس میں کاروار انکولہ حلقہ بھی شامل ہے جہاں سے اسنوٹیکر کے جیتنے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔پتہ چلا ہے کہ اسنوٹیکرکو جنتا دل ایس کی طرف سے بھروسہ بھی دلایا گیا ہے کہ اگروہ جے ڈی ایس کی ٹکٹ پر جیت جاتے ہیں تو انہیں اتحادی حکومت میں وزارت دی جائے گی۔لہٰذا اسنوٹیکر نے بی جے پی کو خیر باد کہہ کرجے ڈی ایس کو گلے لگانے کا من بنا لیا ہے۔لیکن اس بارے میں خود آنند اسنوٹیکر نے کوئی بات اب تک ظاہر نہیں کی ہے۔ اس تعلق سے جانکاروں کا خیال ہے کہ وہ بی جے پی سے ہی ٹکٹ ملنے کی توقع میں کچھ وقت تک انتظار کرنا چاہتے ہیں۔
جے ڈی ایس کے منصوبے کے بارے میں معتبر ذرائع سے خبرآرہی ہے کہ انکولہ کاروار سے اسنوٹیکر کو ٹکٹ دینے کے علاوہ سرسی سداپور سے ڈاکٹر ششی بھوشن ہیگڈے ، یلاپور سے رویندرا ناتھ نائک اورکمٹہ سے پردیپ نائک کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بہرحال حقیقی صورتحال جاننے کے لئے فطری طور پر ابھی انتظار کرنا ہوگا۔پتہ الیکشن قریب آتے آتے سیاسی آسمان کے اور کتنے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔